بے چینی، اضطراب، اندیشے اور ان کا حل

سورہ الم نشرح کی پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے ’’ (اے نبیؐ) کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔ ‘‘
قرآنِ مجید میں سینہ کھولنے کا لفظ جتنی بار بھی آیا ہے، ان میں ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردّد سے پاک ہوکر کامل یک سوئی سے اسلام کی راہ پر گام زن ہونے کی تلقین کی گئی ہے اور آگے کی بڑی سے بڑی مہمات اور سخت سے سخت کاموں کو سرانجام دینے کے لیے نبی اکرم ﷺ کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے۔ اس آیت میں اُن سب لوگوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو جادۂ حق پر چل رہے ہیں اور صداقت کا عَلم اٹھائے ہوئے ہر قسم کے نامساعد حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

بے چینی، اضطراب، اندیشے اور ان کا حل
بے چینی، اضطراب، اندیشے اور ان کا حلشیئرٹویٹ
جمعـء 2 ستمبر 2016
شیئر
ٹویٹ
تبصرے
مزید شیئر

’’ اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الَم سے، عاجزی، سستی،بزدلی، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبے سے‘‘ فوٹو: فائل
سورہ الم نشرح کی پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے ’’ (اے نبیؐ) کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔ ‘‘
قرآنِ مجید میں سینہ کھولنے کا لفظ جتنی بار بھی آیا ہے، ان میں ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردّد سے پاک ہوکر کامل یک سوئی سے اسلام کی راہ پر گام زن ہونے کی تلقین کی گئی ہے اور آگے کی بڑی سے بڑی مہمات اور سخت سے سخت کاموں کو سرانجام دینے کے لیے نبی اکرم ﷺ کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے۔ اس آیت میں اُن سب لوگوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو جادۂ حق پر چل رہے ہیں اور صداقت کا عَلم اٹھائے ہوئے ہر قسم کے نامساعد حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اسی طرح سورہ الزمر میں اﷲ تعالی کا فرمان ہے ’’ کیا پھر وہ شخص جس کا سینہ اﷲ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (وہ سخت اور تنگ دل کافر کے برابر ہو سکتا ہے) چناں چہ ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل اﷲ کی یاد کے معاملے میں سخت ہیں، وہی لوگ کھلی گم راہی میں ہیں۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچ و حق سے دل کشادہ ہوتا اور جھوٹ و منافقت سے سخت ہوجاتا ہے۔
سورہ الانعام میں ارشادِ ربانی ہے ’’ چناں چہ اﷲ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گم راہ کرنا چاہتا ہے، اس کا سینہ بہت تنگ کر دیتا ہے، جیسے وہ آسمان میں چڑھ رہا ہو۔‘‘ (الانعام)
چناں چہ سورہ آل عمران میں اﷲ تعالی نے فرمایا ہے۔ ’’ اور مومنوں کو اﷲ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘ (آل عمران)
جب ہمارے لیے اتنا مضبوط سہارا موجود ہے تو ہمیں دور ازکار قسم کے اندیشوں میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ ؟ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے، اسے تو لکھنے والا ہی جانتا ہے جو عَلّام الغیوب (سب سے بڑھ کر غیب جاننے والا) بھی ہے اور قادر ِمطلق بھی ہے۔ وہ چاہے تو آنے والی بلا کو ٹال بھی سکتا ہے۔ ہم نبی رحمت ﷺ کے اس ارشاد کو بھی جانتے ہیں کہ ’’ تقدیر کو کوئی چیز رد نہیں کرتی مگر دعا۔ ‘‘
اﷲ تعالی کی بارگاہ میں خشوع و خضوع سے دعا کی جائے تو وہ رْخِ گردشِ ایّام بدل سکتا ہے۔ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دْعا مانگا کرتے تھے۔
’’ اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الَم سے، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبے سے‘‘
ہماری بعض پریشانیاں ہماری بے وقت کی سوچوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایسی سوچیں ہمیں عجیب طرح کے خیالات اور اوہام میں مبتلا کیے رکھتی ہیں۔ ان سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ یہ سمجھ کر جئیں کہ آج آپ کی زندگی کا آخری دن ہے۔ اگر آپ اپنے اوپر یہ سوچ طاری کرنے میں کام یاب ہو گئے تو پریشانی فوراً دور ہو جائے گی۔
سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا۔ ’’ دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔‘‘

چناں چہ سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے۔
’’ جب شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو۔ اپنی صحت کو مَرض سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘
بَہ الفاظ دیگر آپ صرف لمحات موجود میں دل و جان اور جسم سمیت جینے کی کوشش کریں۔ نہ ماضی کے بارے میں پریشان ہوں اور نہ مستقبل کا سوچ کر مبتلائے فکر ہوں۔
ایک عرب شاعر کا کہنا ہے۔
’’ماضی ہمیشہ کے لیے جا چکا اور جس کے آنے کی توقع کی جاتی ہے وہ اَن دیکھا ہے۔ تو تیرے پاس جو کچھ ہے وہ ساعت موجود ہے، اسی میں جینے کی کوشش کر۔‘‘
ماضی کی سوچوں میں غرق رہنا اور گڑھے مُردوں کو اکھاڑ کر حال کو خراب کرنا غیر صحت مند ذہن کی علامات ہیں۔
چین کی ایک کہاوت ہے۔ ’’ پْل پر پہنچنے سے پہلے اسے پار نہ کرو۔‘‘
اسی طرح ایک فارسی مقولہ بھی ہے۔
’’ ندی پر پہنچنے سے پہلے ہی جوتے اتار لینا دانش مندانہ بات نہیں ہے۔‘‘
سلف صالحین میں سے ایک بزرگ کا قول ہے۔
’’اے ابن آدم! تمہارے پاس صرف تین دن ہیں۔ گزرا ہوا کل، وہ تو تمہیں چھوڑ چکا۔ آنے والا کل، اس کو تو ابھی آنا ہے، اور جو آج کا دن ہے، تو تم اﷲ تعالی سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘
جس شخص نے ماضی، حال اور مستقبل کی پریشانیوں کا بوجھ سر پر اٹھا رکھا ہو، وہ صحیح معنوں میں کیسے جی سکتا ہے۔۔۔ ؟ اسے سکون قلب کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔۔۔؟ جو کچھ گزر چکا ہے اور واقعات کی گَرد بھی بیٹھ چکی ہے، اسے بار بار دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جو آدمی ماضی کے بوجھ کو اْٹھائے پھرتا ہے، وہ اس کا درد ہمیشہ محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ درد اسے کسی طرح سے بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔
گزشتہ سطور میں سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد گزرا ہے۔
’’ جب شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح ہو جائے تو شام کے منتظر نہ رہو۔‘‘ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس دنیا سے زیادہ لمبی چوڑی امیدیں وابستہ نہ کرو۔ موت کو آنے والی سمجھو اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال اکٹھے کرو تاکہ آخرت کے لیے اچھا توشہ جمع ہوجائے۔
اس لیے کہ وہ بہت لمبا سفر ہوگا۔ اسے موجودہ زندگی کے ماہ و سال کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر سب کو بتا دیا جائے گا کہ بس اب موت ختم اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آچکی ہے۔ اصل عیش و آرام وہی ہوگا جو وہاں نصیب ہوگا، ان خوشیوں کو کوئی بھی نہیں چھین سکے گا۔
غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
’’ اے اﷲ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔‘‘

(Visited 3 times, 1 visits today)
Advance POS (POINT OF SALE) in C#
In Webmaster tools googlebot is getting a crawl error 500 from the server

Comments

comments

Leave a Reply